امریکی محکمہ خارجہ
ترجمان کا دفتر
محکمہ خارجہ کی روزمرہ  پریس بریفنگ نمبر 40
سوموار، 15 اپریل 2024

(آئندہ ہدایات تک آن دی ریکارڈ)

میتھیو ملر: میں مشرق وسطیٰ کے بارے میں چند افتتاحی کلمات سے آغاز کرنا چاہوں گا۔ اس ہفتے ایران نے اسرائیل پر فضائی حملہ کیا جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ ایران کے ڈرون طیاروں اور میزائلوں کو روکنے کی دفاعی کوشش موثر رہی اور بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچا لیا گیا۔ یہ ایک مشترکہ کامیابی تھی اور امریکہ کو اس میں اہم کردار ادا کرنے پر فخر ہے۔

حملے کے بعد گزشتہ دو ایام میں صدر اور وزیر خارجہ نے خطے اور دنیا بھر میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی۔ گزشتہ روز وزیر خارجہ بلنکن نے مصر، اردن، سعودی عرب، ترکیہ، جرمنی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ سے رابطہ کیا اور وہ آج بھی اپنے غیرملکی ہم منصبوں سے بات کر رہے ہیں۔

ہم عالمی برادری پر زور دیتے رہیں گے کہ وہ ایسے لاپرواہانہ اشتعال انگیز اقدامات کی متحدہ طور پر مذمت کرے۔ ایسے طرز عمل سے خطے کے غیرمستحکم ہونے کا خدشہ ہے اور وہاں تمام لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ ایران کے حملے نے خطے میں متعدد ممالک کی خودمختاری کو پامال کیا ہے۔

میں یہ بات بھی پوری طرح واضح کرنا چاہتا ہوں کہ امریکہ ایران کی سلامتی کو بے حد اہمیت دیتا ہے۔ اسرائیل پر ایران کے حملے کو روکنے کے لیے ہمارا کردار ہمارے اس عزم کا واضح اظہار ہے۔ غزہ میں باقی ماندہ تمام یرغمالیوں کی رہائی اور زیادہ سے زیادہ دپائیدار امن کی راہ تخلیق کرنے کے لیے کم از کم چھ ہفتے کی فائر بندی کے لیے ہماری کوششیں بھی اسی عزم کو ظاہر کرتی ہیں۔ ہم اس کام کو آگے بڑھانے اور اسرائیل، فلسطینی لوگوں اور پورے خطے کو پائیدار امن و سلامتی مہیا کرنے کا عزم رکھتے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے فوری اقدامات کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔


اصل عبارت پڑھنے کا لنک: https://www.state.gov/briefings/department-press-briefing-april-15-2024/

یہ ترجمہ ازراہ نوازش فراہم کیا جا رہا ہے اور صرف اصل انگریزی ماخذ کو ہی مستند سمجھا جائے۔

U.S. Department of State

The Lessons of 1989: Freedom and Our Future